بھٹکل،5؍ نومبر (ایس او نیوز) نیشنل ہائی وے 66 کی فور لین توسیع کا کام شروع ہوکر 8 سال کا عرصہ گزر گیا اور ادھورے کام کے باوجود مرکزی وزیر نتین گڈکری کی طرف سے نیشنل ہائی وے کا افتتاح کیے جانے کو بھی ڈیڑھ سال کا عرصہ گزر گیا مگر شہر کے کئی مقامات پر ابھی بھی کام ادھورا پڑا ہوا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ یہ نیشنل ہائی وے کا منصوبہ اپنی سمت اور راستہ سے بھٹک گیا ہے۔
بھٹکل تعلقہ میں نیشنل ہائی وے 66 کا علاقہ 32 کلو میٹر طویل ہے ۔ مگر خاص کر عین بھٹکل شہر کے درمیان تنگن گنڈی کراس سے منکولی کراس تک یہاں وہاں آدھے ادھورے طور پر کی گئی کھدائی ، آس پاس سے نیشنل ہائی وے کے ساتھ جڑنے والی سڑکوں سے مسلسل آتی ہوئی موٹر گاڑیاں اور بعض جگہ بیریکیڈس لگا کر ٹریفک کو قابو میں رکھنے کی کوشش کا نظارہ عام ہے۔
تنگن گنڈی کراس، شفا کراس ، نوائط کالونی کراس ، جالی کراس ، نور مسجد کے پاس عید گاہ کراس ، پی ایل ڈی بینک کے قریب بائی پاس ، عثمان نگر کراس ، منکولی کراس، مٹھلی بائی پاس جیسے مختلف کراس روڈ جڑنے کی جگہ پرایک تو حادثات کا خطرہ بہت زیادہ ہے دوسرے ہائی وے کی ٹریفک متاثر ہوتی ہے اور بڑی مشکل سے گاڑیوں کو آگے بڑھانا پڑتا ہے۔
کوالٹی ہوٹل کے سامنے والی پہاڑی پر وقفہ وقفہ سے کھدائی ہوتی اور دو چار دن کے اندر روک دی جاتی ہے ۔ اب اگلی کھدائی کب ہوگی اور یہاں کام کس رفتار اور رخ پر چلے گا اس کا کوئی اشارہ نہیں ملتا ۔ برسات کے موسم میں امسال رنگین کٹے کے پاس جو صورتحال پیدا ہوئی تھی اس سے عوام کو اندازہ ہوگیا ہے کہ نیشنل ہائی وے کی اس توسیع کا انجام کیا ہونے والا ہے ۔ کچھ یہی صورتحال شیرالی میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔
شہر کے عثمان نگر/ گلمی کراس ، منکولی کراس ، موڈبھٹکل کراس پر عام ٹریفک اور عوام کے لئے جو خطرہ بنا ہوا ہے اس کا کوئی حل نکلتا نظر نہیں آتا۔
اس کے علاوہ مرڈیشور کے کائکینی بستی میں عوام نے انڈر پاس کا اپنا مطالبہ پوا ہونے تک کام میں رکاوٹ ڈالنے کا فیصلہ کیا ہوا ہے جس کی وجہ سے وہاں بھی کام ادھورا پڑا ہوا ہے ۔ اور اسے دیکھتے ہوئے یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ منصوبہ آخر کس رخ پر جا رہا ہے اور اس کا اختتام آخر کب ہوگا۔